ڈاکٹر عاکف خان
خالص وائرولوجی کے تکنیکی سوالات پر میں سند نہیں ہوں، اور اس شعبے کے ماہرین ان کا بہتر جواب دے سکتے ہیں۔ میں دو چیزوں پر بات کر سکتا ہوں: ایک، کسی دعوے کے پیچھے ثبوت کا معیار کیا ہے۔ دوسرا، لیبارٹری کے اندر عملاً کیا ہوتا ہے، کیونکہ اس میں میرے بیس سال گزرے ہیں۔
ڈاکٹر فراز صدیقی کی ویڈیو میں مبالغہ آرائی حد سے زیادہ ہے۔ وہ اپنا تعارف میڈیکل ڈاکٹر کے طور پر کراتے ہیں، مگر ان کا سائنسی استدلال وہی ہے جو ہمیں اکثر میڈیکل پریکٹیشنرز میں ملتا ہے، یعنی ٹیکنیشن والی سوچ: طریقہ کار کا علم موجود، مگر شواہد کو پرکھنے کی تربیت غائب۔
وہ مقالہ ریسرچ آرٹیکل نہیں ہے
ویڈیو کا تقریباً نصف حصہ ایک مقالے کے گرد گھومتا ہے، جس کے جملے وہ انڈر لائن کر کے دکھاتے ہیں، اور جسے وہ “ریسرچ آرٹیکل” کہتے ہیں جس میں “پریکٹیکل ثبوت” نہیں۔
یہ ریسرچ آرٹیکل ہے ہی نہیں۔ یہ Correspondence ہے، یعنی ایڈیٹر کے نام ایک تفصیلی خط۔ اس کا آغاز ہی “To the Editor” سے ہوتا ہے، اور صنف کا نام مقالے کے اوپر لکھا ہوا ہے۔ اس میں کوئی نیا تجربہ کیا ہی نہیں گیا، اس لیے اس میں تجرباتی ثبوت نہ ہونے پر اعتراض ایسا ہی ہے جیسے کوئی اخباری اداریے پر اعتراض کرے کہ اس میں خبر ہی نہیں۔ آدھی ویڈیو ایک دستاویز پر خرچ کرنا اور اس کی بنیادی صنف تک نہ پہچاننا، یہ معمولی چوک نہیں۔
ان کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس میں تکنیکی اصطلاحات ہیں جو انہیں یا عام قاری کو سمجھ نہیں آتیں۔ یہ مقالہ عام قاری کے لیے لکھا ہی نہیں گیا، یہ فیلڈ کے لوگوں کے لیے ہے۔ کسی تحریر کا آپ کے لیے مشکل ہونا اس تحریر کا نقص نہیں۔
اور مقالہ کہتا کیا ہے؟ وہ سارس کوو ٹو کے ارتقاء کے ممکنہ راستوں پر حوالوں کے ساتھ بحث کرتا ہے: جانوروں میں ارتقاء اور پھر انسان کو منتقلی، انسانوں میں منتقلی کے بعد ارتقاء، اور تیسرا، لیب میں سیلز پر کام کے دوران ارتقاء اور حادثاتی اخراج۔ تیسرا امکان مقالے میں باقاعدہ زیرِ بحث آیا ہے، چھپایا نہیں گیا۔ آخر میں مصنفین لکھتے ہیں کہ ان کے خیال میں لیبارٹری والا کوئی منظرنامہ قابلِ اعتبار نہیں، اور ساتھ ہی تسلیم کرتے ہیں کہ باقی نظریات کو فی الحال ثابت یا رد کرنا ممکن نہیں۔ یہ ایک رائے کا اظہار ہے، ابتدائی ڈیٹا کی بنیاد پر، وبا کے تیسرے مہینے میں، ایک خط کی صورت میں۔ اسے فیصلہ کن ثبوت سمجھنا اُس وقت بھی غلط تھا اور آج بھی غلط ہے، اور یہ غلطی اُن کی ہے جنہوں نے اسے بحث بند کرنے کا سرٹیفکیٹ بنایا، مصنفین کے الفاظ کی نہیں، کیونکہ انہوں نے یقین کا دعویٰ کیا ہی نہیں تھا۔
فیورن کلیویج سائٹ
ویڈیو میں یہ بات ایسے کہی گئی ہے جیسے طے شدہ ہو کہ فیورن کلیویج سائٹ لیب میں وائرس کے اندر منتقل کی گئی۔
یہ آج تک کہیں ثابت نہیں ہوا۔ نہ کوئی تجرباتی ریکارڈ، نہ کوئی سیکوئنس، نہ کوئی دستاویز۔ میں نے یہ الگ سے جانچا ہے اور ہر قاری خود جانچ سکتا ہے۔ اتنا ضرور ہے کہ 2018 میں ایک تحقیقی تجویز میں چمگادڑ کورونا وائرسوں میں ایسی سائٹ داخل کرنے کا منصوبہ شامل تھا، وہ بھی امریکہ میں، مگر وہ تجویز مسترد ہوئی اور کبھی فنڈ نہیں ہوئی۔ ایک تجویز کا وجود اس بات کا ثبوت نہیں کہ کام ہوا۔ جو لوگ اسے ثبوت بنا کر پیش کرتے ہیں، وہ وہی چھلانگ لگا رہے ہیں جس پر ہم دوسری طرف اعتراض کرتے ہیں۔
فاؤچی اور پیسے
یہ کہ فاؤچی نے جیب سے چیک دیے یا کسی سے پیسے لیے، اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ یہ خالص سازشی بیانیہ ہے۔
تحقیقی اداروں کو گرانٹس دینا اور ان کا آگے ذیلی گرانٹس میں تقسیم ہونا دنیا بھر میں معمول کا نظام ہے۔ میں خود اسی نظام میں کام کرتا ہوں۔ اس میں فی نفسہٖ کوئی سازش نہیں۔ گرانٹ کی موجودگی سے یہ نتیجہ نکالنا کہ فنڈنگ دینے والے نے وبا پھیلائی، ایک ایسی چھلانگ ہے جس کے لیے کوئی بنیاد نہیں۔
ان دعووں میں چین مخالف تعصب بھی صاف نظر آتا ہے، اور یہ تعصب دلیل کی جگہ لے لیتا ہے۔
پہلا کیس کب ہوا
ویڈیو میں کہا گیا کہ کووڈ کا پہلا کیس 2020 میں ہوا۔ یہ غلط ہے۔
شائع شدہ طبی رپورٹ کے مطابق سب سے پہلے شناخت شدہ مریض میں علامات یکم دسمبر 2019 کو ظاہر ہوئیں، اور مقامی صحت حکام نے 31 دسمبر 2019 کو نامعلوم نمونیا کے کیسز کا باقاعدہ اعلان کیا۔ عالمی ادارہ صحت نے 30 جنوری 2020 کو ہنگامی صورتحال اور 11 مارچ 2020 کو وبا کا اعلان کیا۔ خود اسی مقالے میں لکھا ہے، جسے وہ آدھی ویڈیو میں دکھاتے رہے، کہ جینیاتی تجزیے کے مطابق وائرس کے مشترکہ جد کا وقت نومبر کے آخر سے دسمبر 2019 کے اوائل تک بنتا ہے۔
اکتوبر نومبر 2019 میں ہم لوگ چین میں معمول سے کچھ زیادہ فلو کے کیسز دیکھ رہے تھے اور ایک دوسرے کو سفر میں احتیاط کا کہہ رہے تھے۔ ممکن ہے وائرس پہلے پھیل چکا ہو، اور یہ بھی بالکل ممکن ہے کہ وہ عام موسمی فلو ہی ہو۔ میں یہ ذاتی مشاہدے کے طور پر لکھ رہا ہوں، ثبوت کے طور پر نہیں۔
“ویکسین بعد میں نہیں لگتی”
یہ ویڈیو کی سب سے واضح طبی غلطی ہے، اور دلچسپ بات یہ کہ وہ خود ہی چند جملوں بعد ٹیٹنس کی مثال دے کر اپنی بات کاٹ دیتے ہیں۔
پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ ویکسین کام کیسے کرتی ہے۔ ویکسین لگتے ہی تحفظ نہیں ملتا۔ جسم کو اینٹی باڈیز بنانے میں کئی دن سے چند ہفتے لگتے ہیں۔ اب بعض بیماریوں میں جراثیم یا وائرس کے جسم میں داخل ہونے اور بیماری کے باقاعدہ جڑ پکڑنے کے درمیان کافی وقفہ ہوتا ہے۔ اگر اس وقفے میں ویکسین لگا دی جائے تو مدافعتی نظام بیماری کے قدم جمانے سے پہلے تیار ہو جاتا ہے اور اسے روک لیتا ہے۔ اسی کو انفیکشن کے بعد ویکسینیشن یا پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسس ویکسینیشن کہتے ہیں، اور یہ میڈیکل سائنس کا بنیادی اور بہت پرانا اصول ہے۔
ریبیز اس کی سب سے معروف مثال ہے، جہاں کتے کے کاٹنے کے بعد ویکسین کی خوراکیں دی جاتی ہیں اور بروقت ہونے پر عملاً مکمل تحفظ دیتی ہیں، کیونکہ ریبیز کا انکیوبیشن پیریڈ ہفتوں سے مہینوں تک ہو سکتا ہے۔ یہی طریقہ ٹیٹنس، خناق، ہیپاٹائٹس اے اور بی، خسرہ اور چکن پاکس میں بھی استعمال ہوتا ہے، اور چیچک کے خاتمے کی پوری حکمتِ عملی اسی پر کھڑی تھی۔ اس سب پر منظم سائنسی جائزے موجود ہیں۔ ایک میڈیکل ڈاکٹر کا یہ کہنا کہ ویکسین انفیکشن کے بعد نہیں لگتی، حیران کن ہے۔
انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اس کی حد بھی بتائی جائے۔ یہ اصول ہر بیماری پر لاگو نہیں ہوتا، کیونکہ ہر بیماری اتنا وقت نہیں دیتی۔ سارس کوو ٹو کا انکیوبیشن پیریڈ صرف چند دن کا ہے، اتنا کم کہ ویکسین سے قوتِ مدافعت بننے سے پہلے ہی بیماری شروع ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے کووڈ ویکسین کبھی اس مقصد کے لیے منظور نہیں ہوئی۔ اگر ان کا مطلب صرف کووڈ ویکسین تھا تو اس حد تک ان کی بات درست ہے۔ مگر انہوں نے عمومی بات کی، اور عمومی بات کے طور پر یہ غلط ہے۔
بوسٹر، اینٹی باڈیز، اور اگلے دن کووڈ
ویڈیو کا ایک بڑا حصہ ایک ذاتی قصے پر ٹکا ہوا ہے: ان کے سینئر نے انہیں بتایا کہ بوسٹر کے بعد ان کے جسم میں اینٹی باڈیز کی سطح بہت زیادہ ہے، اور اگلے ہی دن انہیں کووڈ ہو گیا۔
اس قصے سے ثابت کیا ہوتا ہے؟ کچھ بھی نہیں، اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔
اگر انہیں اگلے دن علامات ظاہر ہوئیں تو وائرس ان کے جسم میں پہلے سے موجود تھا۔ ویکسین ماضی میں جا کر کام نہیں کرتی۔ اور جیسا اوپر بیان ہوا، کووڈ ویکسین سے تحفظ بننے میں دو ہفتے تک لگتے ہیں۔ اس دورانیے میں انفیکشن ہو جانا ویکسین کی ناکامی نہیں، بلکہ عین وہی ہے جس کی توقع تھی۔
دوسرا، ہو سکتا ہے ڈاکٹر کو وائرس کا کوئی اور سٹرین لگا ہو۔
تیسرا، خون میں اینٹی باڈیز کی مقدار کا زیادہ ہونا انفیکشن کے خلاف مکمل ڈھال نہیں۔ سانس کی نالی کی مقامی مدافعت اور خون میں گردش کرنے والی اینٹی باڈیز دو الگ چیزیں ہیں۔ کووڈ ویکسینوں کی اصل طاقت ہمیشہ شدید بیماری، ہسپتال داخلے اور موت روکنے میں تھی، انفیکشن کو سو فیصد روکنے میں نہیں۔ کسی کمپنی نے کبھی سو فیصد افادیت کا دعویٰ کیا ہی نہیں۔ ابتدائی ٹرائلز میں یہ زیادہ سے زیادہ نوے سے پچانوے فیصد تھی، اور بعض ویکسینوں میں اس سے کافی کم۔ نئے ویریئنٹس آنے کے بعد انفیکشن روکنے کی صلاحیت اور بھی گر گئی، جو معلوم اور رپورٹ شدہ حقیقت ہے۔
چوتھا، اور یہ سب سے اہم نقطہ ہے: یہ ایک واقعہ ہے۔ ایک شخص، ایک بار۔ جو صاحب ایک مقالے سے “پریکٹیکل ثبوت” مانگ رہے ہیں، وہ اپنی پوری دلیل ایک ذاتی قصے پر کھڑی کر رہے ہیں۔ اگر انفرادی تجربہ ثبوت ہے تو میرا تجربہ بھی سن لیجیے: میں نے نسبتاً کم افادیت والی (ستر فیصد) چینی ویکسین لگوائی، تین سال ایک ایسے ملک میں رہا جہاں سے وبا شروع ہوئی، اس دوران خوب سفر کیا، کئی بار کلسٹرز اور لاک ڈاؤن والے علاقوں سے گزرا، اور مجھے وائرس نہیں لگا۔ آخری خوراک کے دس گیارہ ماہ بعد، جب سب کھل چکا تھا اور وائرس کمزور پڑ چکا تھا، تب لگا۔
میرا یہ قصہ بھی کچھ ثابت نہیں کرتا۔ یہی بات ہے۔ اسی لیے دنیا لاکھوں افراد پر مبنی مطالعات کرتی ہے، دو آدمیوں کے قصے نہیں۔
بات آخر کہنا کیا چاہ رہے ہیں؟
ویڈیو کا سب سے پریشان کن پہلو یہ ہے کہ اس میں کوئی واضح مؤقف ہے ہی نہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ باقی ویکسینیں ٹھیک ہیں، چیچک، خسرہ، سب لگوائیں، بس یہ ایک نہ لگوائیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی اہلیہ اور بچوں کو ابتدائی خوراکوں کے بعد مزید خوراکیں نہیں لگوائیں۔ اور اس کے ساتھ وہ ایک کے بعد ایک وہی مانوس دعوے دہراتے ہیں کہ اس ویکسین سے یہ ہو جاتا ہے، وہ ہو جاتا ہے، یہ خطرناک ہے۔
تو دعویٰ کیا ہے؟ اگر آپ کے پاس شواہد ہیں کہ یہ ویکسین نقصان دہ ہے، تو صاف کہیے اور شواہد پیش کیجیے۔ اگر نہیں ہیں تو یہ سب کہنے کا مقصد کیا ہے؟
کیا یہ مقصد ہے؟: شک پیدا کرنا، بغیر کوئی ذمہ داری اٹھائے۔ کوئی قابلِ جانچ دعویٰ نہ کیجیے تاکہ کوئی آپ کو غلط ثابت نہ کر سکے، مگر ناظر کے ذہن میں اتنا شبہ چھوڑ دیجیے کہ وہ اگلی بار ویکسین لگوانے سے ہچکچائے۔ یہ سائنسی تنقید نہیں ہے۔ سائنسی تنقید کا مطلب ہوتا ہے: میرا دعویٰ یہ ہے، میرا ثبوت یہ ہے، اور اگر یہ چیز ملے تو میں غلط ہوں گا۔
ایک ڈاکٹر کا اس طرح شک بونا، اور ساتھ ہی خود کو محتاط اور معتدل دکھانا، عام آدمی سے یہ بات کہنے سے زیادہ نقصان دہ ہے، کیونکہ اس کے پیچھے ڈگری کا وزن کھڑا ہے۔
مضر اثرات کا اصل حساب
ہلکے ردِعمل عام تھے: بازو میں درد، تھکن، ہلکا بخار۔ یہ ویکسین کے کام کرنے کی علامت ہیں، نقصان کی نہیں۔
سنگین مضر اثرات انتہائی نایاب تھے، شرح کے اعتبار سے چند فی لاکھ، یعنی ننانوے اعشاریہ نو نو فیصد سے زیادہ لوگوں کو کچھ نہیں ہوا۔ اور جو چند نایاب مسائل واقعی سامنے آئے، انہیں کسی سازشی تھیوریسٹ نے دریافت نہیں کیا۔ انہیں ریگولیٹری اداروں نے نگرانی کے نظام سے پکڑا، تحقیق کی، تسلیم کیا، لیبل تبدیل کیے، اور بعض ویکسینیں مخصوص عمر کے گروہوں کے لیے محدود کر دیں۔
یہی سائنس کا کام کرنے کا طریقہ ہے۔ وہ مضر اثرات چھپا کر نہیں چلتی، بلکہ انہیں گنتی ہے، ناپتی ہے، اور فائدے کے مقابل رکھ کر فیصلہ کرتی ہے۔ جو لوگ ان نایاب واقعات کے وجود کو ہی ہتھیار بنا کر پوری ویکسین رد کرتے ہیں، وہ دراصل اسی نظام کا حوالہ دے رہے ہوتے ہیں جس پر وہ اعتماد کرنے سے انکار کرتے ہیں۔
اور دوسری طرف پیمانہ دیکھیے۔ ماڈلنگ مطالعات کے مطابق ویکسینیشن کے پہلے ہی سال میں دنیا بھر میں کروڑوں اموات ٹلیں۔ تخمینوں میں فرق ہے، سمت میں نہیں۔ ہاں، ویکسینیں جلدی میں بنیں اور ٹرائلز جلدی میں ہوئے۔ یہ سچ ہے۔ سوال یہ ہے کہ متبادل کیا تھا اور وقت کہاں تھا؟؟؟
لیب لیک کے بارے میں میرا اصل مؤقف
یہاں مجھے بہت واضح رہنا ہے، کیونکہ اسی جگہ دونوں طرف کے لوگ پھسلتے ہیں۔
اس وقت وائرس کی ابتدا کے کئی منظرنامے زیرِ بحث ہیں، اور ان میں سے کوئی بھی حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا: جانوروں میں ارتقاء اور پھر انسان کو منتقلی، انسان کو منتقلی کے بعد انسانوں کے اندر ارتقاء، مارکیٹ میں جانوروں سے قدرتی منتقلی، اور حادثاتی لیب لیک۔ میرا مؤقف یہ نہیں کہ لیب لیک سب سے زیادہ ممکن ہے۔ میرا مؤقف صرف یہ ہے کہ حادثاتی لیب لیک کو باقی امکانات کے ساتھ برابر کی سطح پر رکھنا چاہیے، اور اسے “ناممکن” کہہ کر خارج نہیں کیا جا سکتا۔
اور اس کے ساتھ ہی، اتنی ہی سختی سے: جان بوجھ کر وائرس بنانے یا چھوڑنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ حادثہ اور سازش دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ سازشی تھیوری والوں کے خلاف میری بنیادی دلیل یہی ہے۔ وہ حادثے کے امکان کو، جو حقیقی ہے، ارادے کے ثبوت میں بدل دیتے ہیں، اور یہ چھلانگ کسی شواہد پر نہیں، بدگمانی پر کھڑی ہے۔
لیب سے پیتھوجن کا حادثاتی طور پر نکل جانا کوئی فرضی بات نہیں، یہ پہلے کئی بار ہو چکا ہے۔ 1973 میں ایک تحقیقی ادارے میں چیچک کے وائرس کا اخراج ہوا جس میں دو اموات ہوئیں، اور 1978 میں ایک میڈیکل سکول میں ایک ملازمہ، جو وائرس پر کام کرنے والی لیب سے ایک منزل اوپر بیٹھتی تھی، چیچک سے ہلاک ہوئی۔ دنیا کی آخری چیچک کی موت جنگل سے نہیں، لیبارٹری سے آئی۔ 2003 اور 2004 میں سارس کوو ون کے کم از کم چار الگ الگ لیبارٹری حادثات ہوئے، اور ان میں سے ایک میں وائرس لیب سے باہر نکل کر انسان سے انسان میں منتقل ہوا، نو افراد متاثر ہوئے، ایک موت ہوئی اور سینکڑوں لوگ قرنطینہ میں گئے۔ 2019 میں ایک ویکسین فیکٹری سے بروسیلا کے اخراج سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے۔ اس کے علاوہ اینتھراکس، فٹ اینڈ ماؤتھ اور انفلوئنزا کے معروف واقعات موجود ہیں۔ سائنسی لٹریچر میں لیبارٹری سے حاصل شدہ انفیکشنز پر باقاعدہ جائزے چھپ چکے ہیں، اور ستر سے زائد ایسے واقعات درج ہیں جن میں لیب سے نکلا مرض عام آبادی تک پہنچا۔
میرا ذاتی تجربہ
کیریئر کے بالکل ابتدائی دنوں میں، ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کی کوالٹی کنٹرول لیب میں، میں WFI یعنی واٹر فار انجیکشن کے ایمپیولز کی آلودگی جانچنے کے لیے نمونہ تیار کر رہا تھا۔ کٹر پاس ہونے کے باوجود میں نے ایمپیول ہاتھ سے توڑنے کی کوشش کی۔ وہ ہاتھ میں ٹوٹا، دستانہ پھٹا، انگوٹھے پر معمولی خراش آئی۔ میں نے نظرانداز کر دیا۔
کچھ دن بعد وہ نمونہ اور اس کے بعد بننے والے سب نمونے اوون میں دھندلے نکلے، یعنی آلودہ ہو گئے۔ یہ BSL3 طرز کی لیب تھی: تین بفر روم، کپڑوں کی تبدیلی، الکحل باتھ، ایئر باتھ، اندر کی طرف ہوا کا بہاؤ۔ سب کچھ موجود تھا۔ اور پھر بھی۔
اگر وہاں کوئی خطرناک پیتھوجن ہوتا تو میں خود کو متاثر کر چکا ہوتا، اور مجھے کئی دن بعد پتا چلتا، بالکل ویسے ہی جیسے نمونوں کا پتا چلا۔
یہ اکیلا واقعہ نہیں۔ میری ایک ساتھی کا چہرہ سالڈ ویسٹ (ٹھوس کچرے) کے ایک پروجیکٹ پر کام کے دوران انفیکٹ ہوا۔ ہماری ایک مائیکروبیالوجی لیب میں پیٹری پلیٹس یونہی کھلی پڑی رہتی تھیں۔ بعض جگہوں پر مخلوط لیبز عام ہیں، یعنی ویٹ کیمسٹری اور مائیکروبیالوجی ایک ہی جگہ، اور ایسی ہی ایک لیب میں میں نے جانوروں کی آنتیں پڑی دیکھیں۔ اسی لیب میں ہمارے نینومیٹیریلز آلودہ ہو جاتے تھے۔ ایک اور موقع پر ہمیں ایک ہسپتال کی مائیکروبیالوجی لیب میں اپنے نینومیٹیریلز کی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات جانچنی تھیں۔ وہ لیب انتہائی گندی تھی، ہمارے نمونے بلاوجہ آلودہ ہو جاتے، اور سکیننگ الیکٹران مائیکروسکوپی کرتے تو نینوپارٹیکلز کی جگہ اینٹی بایوٹک مزاحم خطرناک بیکٹیریا نظر آتے۔ ایک یونیورسٹی میں شعبہ حیاتیات کا ایک سکیورٹی گارڈ اپنے گھر پر چوہے پالتا اور طلبہ کو پچاس روپے فی چوہا بیچتا تھا۔
نئے طلبہ کا لیب میں متاثر ہو جانا غیر معمولی بات نہیں، خاص طور پر وہ جنہیں ابھی چیزیں سنبھالنا نہیں آتیں۔ اور یہ صرف کم وسائل والے اداروں کا مسئلہ نہیں۔ ایک اعلیٰ درجے کی مغربی یونیورسٹی میں، جہاں میں کام کرتا رہا ہوں، ایک طالبہ نے دو لیٹر تیزاب کی پوری بوتل ڈسپوزل کنٹینر میں انڈیل دی۔ کنٹینر بعد میں پھٹ گیا۔ خوش قسمتی سے اس وقت لیب میں کوئی نہیں تھا۔ لیب سیل ہوئی، شعبے کو وضاحت دینی پڑی، طالبہ فارغ ہوئی، اور نئے SOPs بنے۔
اس لیب میں فیوم ہڈز ہیں، بلاسٹ پروف کیبنٹ ہیں، آنکھوں اور جسم کے شاورز ہیں، مخصوص ڈسپوزل سسٹم ہے۔ کیمیکل سنک میں بہانا سختی سے ممنوع ہے۔ فضلے کے اخراج کی سرکاری ادارے باقاعدگی سے نگرانی کرتے ہیں۔ اور پھر بھی دھماکہ ہوا، وہ بھی ڈسپوزل کنٹینر میں، ڈرین میں نہیں۔
ہمارے ایک اور دوست نے اپنی یونیورسٹی کا قصہ سنایا جہاں ایک میرین سائنٹسٹ کو اس لیے ڈی موٹ کیا گیا کیونکہ اس کی لیب نے ایک برآمد شدہ خطرناک سٹرین کو مس ہینڈل کیا، لیک بھی نہیں سیلڈ حالت میں محض مس ہینڈل۔
اس تجربے سے کیا نکلتا ہے اور کیا نہیں
میرا تجربہ یہ ثابت نہیں کرتا کہ کووڈ لیب سے نکلا۔ ذاتی مشاہدات کسی وبا کا سبب متعین نہیں کر سکتے، اور میں یہ دعویٰ کر بھی نہیں رہا۔
میرا تجربہ صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ “ناممکن” کہنا غیر سائنسی ہے۔ایک طالب علم یا ورکر تمام پروٹوکولز کے باوجود متاثر ہو سکتا ہے اور کیریئر بن کر آلودگی باہر لے جا سکتا ہے، بغیر کسی آلودہ سامان یا کپڑے کے۔ بفر روم اور ایئر فلو خراب ہو سکتے ہیں، اور آپ انہیں استعمال کرتے رہ سکتے ہیں بغیر جانے کہ وہ آلودہ ہیں۔
اچھی لیبز اور جدید طریقے مسلسل بہتر ہو رہے ہیں: سینسرز، ہوا اور سطح کی سیمپلنگ، متعدد حفاظتی تہیں۔ کئی ممالک میں اب دو حفاظتی تربیتوں کے بغیر کوئی کام شروع نہیں کر سکتا۔ کہیں کہیں بعض حیاتیاتی لیبز میں محض داخلے کے لیے خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے، اگرچہ باقاعدہ تربیت کا نظام موجود نہیں۔ حادثات کم ہو رہے ہیں۔ مگر سو فیصد یقین کبھی ممکن نہیں۔ اینیمل ہاؤسز ایک الگ کہانی ہیں اور وہاں حفاظت کا معیار عموماً اور بھی کم ہے۔
اور ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ایسے حادثے کا سراغ لگانا بہت مشکل ہے، کیونکہ کوئی تسلیم نہیں کرتا۔ جس کا کیریئر اور روزی داؤ پر ہو، وہ نہیں کہے گا کہ میں لاپروا تھا۔ حکومتوں کے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ اور معاملہ زیادہ بگڑ جائے تو عموماً کسی ایک ذمہ دار کو قربانی کا بکرا بنا دیا جاتا ہے۔
ہم سائنسدانوں میں اپنے شعبے کے دفاع کا ایک فطری تعصب ہوتا ہے۔ اسی تعصب سے “ناممکن” جیسے الفاظ نکلتے ہیں۔ یہ لفظ سائنس کی لغت میں شاذ ہی جائز ہوتا ہے۔
آخری بات
ڈاکٹر فراز صدیقی، آپ کے بیان میں کئی باتیں ایسی ہیں جو حقیقتاً غلط ہیں: پہلے کیس کی تاریخ، ویکسین کے انفیکشن کے بعد استعمال کا عمومی انکار، اور فیورن کلیویج سائٹ کے لیب میں ڈالے جانے کو طے شدہ کہہ کر پیش کرنا۔ ان کے علاوہ ایک دستاویز پر آدھی ویڈیو خرچ کرنا اور اس کی صنف تک نہ پہچاننا۔
ایک بات پر میں آپ سے متفق ہوں: وہ مقالہ اس بحث کو ختم نہیں کرتا۔ مگر وہ ایسا دعویٰ کرتا بھی نہیں تھا۔ اور حادثاتی لیب لیک کا امکان موجود ہے، بالکل ویسے ہی جیسے قدرتی منتقلی کے دیگر امکانات موجود ہیں۔
مگر اس امکان سے آپ جو نتیجہ نکالنا چاہ رہے ہیں، وہ آپ نے کھل کر کہا ہی نہیں۔ اور یہی اصل مسئلہ ہے۔ اگر آپ کے پاس دعویٰ ہے تو اسے قابلِ جانچ بنائیے۔ اگر نہیں ہے تو لوگوں کے ذہنوں میں شبہ بو کر چلے جانا ایک ڈاکٹر کو زیب نہیں دیتا۔
کہا جاتا ہے کہ اداروں نے چیزیں چھپائیں اور اسی سے عوامی اعتماد ٹوٹا۔ میں یہ بات نہیں مانتا۔ سائنسدان اپنی ہر اندرونی بحث اور ہر نئے خیال کا روزانہ فیس بک پر اعلان نہیں کر سکتے، اور کسی بھی پیشے کی طرح ان کی باہمی خط و کتابت نجی ہوتی ہے۔ جو غیر یقینی صورتحال تھی، وہ اسی مقالے میں لکھی ہوئی موجود تھی جو یہ صاحب دکھا رہے ہیں۔ اور اگر وہ لوگ بغیر کسی ثبوت کے ہر دوسرے دن دہراتے رہتے کہ لیب سے نکلنے کا تیس چالیس فیصد امکان ہے، تو اس کا نتیجہ کیا نکلتا؟ دنیا بھر میں چینی اور مشرقی ایشیائی نسل کے لوگوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم اُس وقت بھی ہوئے، اور یہ سلسلہ اور بڑھتا۔ ایک پورے ملک کی تحقیق، ٹیکنالوجی اور معیشت کو محض شبہے کی بنیاد پر نقصان پہنچتا، ثبوت کی بنیاد پر نہیں۔ میں خود ایک چینی یونیورسٹی کا فارغ التحصیل ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ دنیا بھر میں نوکریوں اور تحقیقی اداروں میں بلاوجہ اضافی سکیورٹی پروٹوکولز سے گزرنا کیسا لگتا ہے۔ دستاویزات چھپیں بھی نہیں۔ 2018 کی وہ تحقیقی تجویز 2021 میں سامنے آ گئی تھی، باقی مواد اب آ رہا ہے۔ یہ معلومات کا آہستہ آہستہ کھلنا ہے، چھپانا نہیں۔ اور فاؤچی کو ادھوری معلومات پھیلا کر یا خوف پھیلا کر آخر ملتا کیا؟ لاک ڈاؤن نے جانیں بچائیں۔ معیشت کو نقصان ضرور ہوا، مگر ایک صدی پہلے کی وبا یاد کیجیے اور پھر موازنہ کیجیے۔ عالمی ادارہ صحت نے، حکومتوں نے، سائنسدانوں نے، دوا ساز کمپنیوں نے اور عام لوگوں نے مجموعی طور پر بہت اچھا کیا، اور چین نے بھی عالمی ادارہ صحت کے ساتھ تعاون کیا۔ ذاتی طور پر مجھے کووڈ سے سخت نقصان پہنچا۔ یہ میرے پی ایچ ڈی کے فوراً بعد کا وقت تھا، اور اُن چار برسوں کے ضیاع کی وجہ سے آج میں کئی ارلی کیریئر گرانٹس کے لیے نااہل ہو چکا ہوں۔ اس کے باوجود میں یہی کہوں گا کہ دنیا نے یہ امتحان اچھا دیا۔
تو ان لوگوں کو آخر چاہیے کیا؟ جواب یہ ہے کہ انہیں کچھ نہیں چاہیے، کیونکہ ان کے پاس مانگنے کے لیے کوئی قابلِ جانچ سوال ہے ہی نہیں۔ جس دن وہ یہ بتا دیں کہ کون سا ثبوت انہیں مطمئن کر دے گا، اسی دن ان سے بات ہو سکے گی۔ اور جب تک وہ یہ نہیں بتاتے، وہ سائنس نہیں کر رہے، صرف شک بیچ رہے ہیں۔

Leave a Reply