Tag: International Politics
-
کیا آبادی ایک مسئلہ ہے؟ حصہ دوم
پچھلے ماہ ایک پوسٹ لگائی تھی کہ آبادی کوئی مسئلہ کیوں نہیں ہے۔ [1] حالانکہ اس مضمون میں فیکٹس اور فگرز، دلائل، ثبوت اور شواہد کے ساتھ ہر بات کی گئی تھی مگر پھر بھی بہت سے لوگوں کو یہ سب قبول کرنا مشکل لگا۔ کچھ نے اس کو سرخ سازش قرار دیا، کچھ…
-
سازشی نظریات کیسے پھیلتے ہیں اور ان سے کیسے بچا جائے؟
تحریر: ڈاکٹر عاکف خان کوئی بھی واقعہ ہو ہم لوگ فورا اپنے سازشی دماغ لڑانا شروع کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ حال ہی میں ایک خاتون کا ٹی وی پر مکالمہ ہوا تو دو تین دن میں لوگوں نے اس میں بھی سازش تلاش کر لی کہ یہ سب سکرپٹڈ تھا۔ اسی طرح…
-
کیا آبادی ایک مسئلہ ہے؟
دنیا میں آبادی کی کثافت فی سکویئر کلومیٹر کے حساب سے۔Wikimedia Creative Commons License CC0 1.0 تحریر و تحقیق: ڈاکٹر عاکف خان نوٹ: حوالہ جات مضمون کے آخر میں لف ہیں۔ آپ نے اکثر پاکستانی دانشوروں کو آبادی کے مسئلے پر بات کرتے سنا ہو گا کہ آبادی کا طوفان آ رہا ہے اور سب…
-
عمران خان کا منصوبہ (حصہ دوم)
سڑکوں پر تصادم غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے قبل از وقت انتخابات کرانے کے خان کے مطالبے کو مستردکرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات سال میں شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ لیکن یاسمین کہتی ہیں کہ “ہر بیانیہ [حکومت کے لیے] انتخابات کو ملتویکرنے کا جواز پیش کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے۔” 22 مارچ کو، پاکستان کے الیکشن کمیشن نے ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبےپنجاب میں مقامی ووٹنگ کو 30 اپریل سے 8 اکتوبر تک موخر کر دیا۔ عمران خان مزید کہتے ہیں، “پاکستان میں سیاسی استحکام الیکشن سے آئے گا۔ یہیں سے معاشی بحالی کا بھی آغاز ہو گا۔” امریکی نقطہنگاہ سے عمران خان شاید ایک معاشی طور پر بدحال اور دہشتگردی کی لپیٹ میں آئی ہوئی اسلامی مملکت کے لیے مثالی انتخاب نہیں ہیں۔خان کے مطابق آج تک کسی واحد شخص نے مقتدرہ یا اسٹیبلشمنٹ کو اس طرح خوفزدہ نہیں کیا ہے جیسے میں نے۔ وہ اس بات پر ڈٹے ہیںکہ کیسے مجھے باہر رکھیں اور عوام اس بات پر کہ کیسے مجھے واپس لائے۔ یہ پاکستان کی بدحالی کا مظہر ہے کہ ملک کا عرصہ دراز بعد ایک مقبول سیاست دان بننے والا شخص گھر میں نظربند بیٹھا ہے۔مگر اسجنوبی ایشیاء کی ریڑھ کی ہڈی نما قوم جو کہ آنکھیں خیرہ کرنے والی خلیج عرب سے شروع ہوتی ہے اپنی ہمالیہ کی بلندیوں پر جا پہنچتیہے اس کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں بنتا۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست ہے، اگرچہ یہ اپنی آدھی تاریخ میں خاکیوں کے تسلط میںرہی ہے، اس کے باوجود دنیا میں اقتدار کے حتمی ثالث کے طور پر اپنا نمایاں کردار رکھا ہے۔ پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی عمران خان، 5 اکتوبر 1952 کو لاہور کے ایک متمول پشتون گھرانے میں پیدا ہوا۔ خان نے آکسفورڈ یونیورسٹی سےسیاست، فلسفہ اور معاشیات کی تعلیم حاصل کی، اور برطانیہ میں ہی پہلی بار اس نے 18 سال کی عمر میں پاکستان کے لیے کرکٹ کھیلی۔یہ برطانیہ کی کڑویلی زمین تھی جس نے خان کے سیاسی شعور کو بنیاد فراہم کی۔ عمران خان کہتے ہیں، “جب میں انگلستان آیا تھا اسوقت تک ملک پر ایک فوجی آمر دس سال سے قابض تھا۔ طاقتور کا راج تھا۔ باقی لوگ غلامی میں تھے۔ قانون کا راج ہی انسان کو آزادی دےسکتا ہے۔ قانون کی پاسداری ہی کسی قوم کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھار سکتا ہے۔ میں نے یہی دریافت کیا۔” کرکٹ کی پچ پر، خان ایک ایسا جادوگر تھا جس نے قابل اور منجھے کھلاڑیوں کو یکجا کر دیا، اور ایک ایسے ٹیم بنائی جو 1992 کرکٹ ورلڈکپ میں غیر معمولی حالات کے اندر فتح یاب ہوئی۔ جب خان وزیراعظم بنا تو انہی قائدانہ خصوصیات کی جھلک نظر آئی۔ اس نے ایک انوکھےفارمولے پر چلتے ہوئے طلباء، مزدوروں، اسلامی شدت پسندوں اور ملک کی طاقتور فوج کو ساتھ ملا کر شریف خاندان کا بڑا سیاسی بیڑہ تباہکر ڈالا۔ اگرچہ خان کا سب سے بڑا کارنامہ لاہور کا شوکت خانم کینسر ہسپتال ہے (جس کی زمین نواز شریف کی حکومت نے ہی خان کو دیتھی)، جسے انہوں نے 1994 میں اپنی والدہ کی یاد میں کھولا، جو اسی بیماری سے کئی برس قبل چل بسی تھیں۔ یہ پاکستان کے غریبوںکی خدمت کرنے والا سب سے بڑا کینسر ہسپتال ہے اور خان کی انتظامی صلاحیتوں کا ایک ثبوت بھی۔ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں کامیابی سے قبل خان نے بائیس سال سیاست کے صحراوں میں ٹھوکریں کھائیں۔ لیکن ایک بار اقتدار میںآنے کے بعد، خود ساختہ جرات مندانہ مصلح غیر متزلزل ہو گیا۔ حکومت کے مقابلے میں اپوزیشن آسان ہے۔ خان کے پلان ختم ہو گئے اور وہاپنے ناپسندیدہ لوگوں کو اپنا شراکت دار بناتے بناتے ان میں گھر گیا، یہاں تک کہ کالعدم مذہبی انتہاپسند جماعت تحریک لبیک پاکستان جوکہ کھلم کھلا بلاسفیمی کے ملزموں کے ازخود سر قلم کرنے کی بات کرتی ہے اس کی خوشنودی تک حاصل کرنے لگا۔ کچھ کامیابیاں ملیں جنمیں پاکستان کی کورونا وائرس سے نمٹنے کی دنیا بھر نے تعریف کی، جس میں فی کس اموات پڑوسی ملک بھارت سے صرف ایک تہائی رہیں۔اس کے علاوہ “دس ارب درختوں کا سونامی” جنگلات کی بحالی کی مہم مقبول تھی۔ اس کے علاوہ دو ہزار انیس میں پاکستان میں بینالاقوامی ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی تھی، جو کہ سری لنکا کی ٹیم پر دہشت گرد حملے کے بعد سے تقریبا دس سال سے رکی تھی۔ خان کی نجی زندگی شاذ و نادر ہی سرخیوں سے باہر رہی ہے۔ ان کی پہلی بیوی برطانوی صحافی اور سوشل آئکن جمائما خان گولڈ اسمتھتھیں، جو کہ ویلز کی شہزادی لیڈی ڈیانا کی قریبی دوست بھی تھیں۔ جمائما نے شادی کے لیے اسلام قبول کیا، اگرچہ یہ شادی نو سال بعددو ہزار چار میں ٹوٹ گئی، اس کے علاوہ جمائما کا یہودی ورثہ خان کے لیے سیاسی بارود تھا۔ (ان کے دو بیٹے لندن میں رہتے ہیں۔) خان کیبرطانوی پاکستانی صحافی ریحام خان سے دوسری شادی نو ماہ تک جاری رہی۔ کیلیفورنیا کی عدالت کے انیس سو ستانوے کے فیصلے کےمطابق، خان کی ایک اور بیٹی بھی ہے، جو کہ شادی کے بغیر پیدا ہوئی جبکہ کئی اور بچوں کے بارے میں بھی عموما افوائیں پھیلتی رہتی ہیںجن کو عمران خان ساری عمر دبانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ دو ہزار اٹھارہ میں، اقتدار سنبھالنے سے چھ ماہ قبل، انہوں نے اپنی موجودہبیوی بشریٰ بی بی خان جو کہ ایک مذہبی خاتون ہیں سے شادی کی۔ (جاری ہے) پہلا حصہ:- https://azkworld.blogspot.com/2023/04/blog-post.html
-
Javed sb, You Didn’t Have to Eat Your Heart Out Here
I used to be a fan of you, your rationality, your humanism, the way you thrashed unreasonable people such as Sadh Guru in debates, your bravery in the face of orthodoxy and all, despite your aloofness, which I think comes naturally with age and experiences of life. But there was no need to act dense…
-
Pakistan: An interactive guide for Hollywood and Bollywood Movie Makers
IT is often very funny to see the international media, especially TV and Film Industry, portaying Pakistan as some country where women are covered in black overalls or shuttlecock burqas, people having beards and no moustaches with a checkered cloth over their shoulders, riding donkeys, wiping their behinds with stones, narrow streets, dusty roads, people…
-
Gaza Siege to Israel’s Isolation! Just a matter of time?
The world is being completely asymmetrical in the terms of peace. Middle East, Eastern Europe and Africa are struck with wars. Hatred is rampant. Violent political ideologies are mushrooming from every nook and corner of the world. More wars with more hatred and more bloodshed would be the ultimate folly at this time. More chaos…
-
Arabisation or Westernisation; what are we really victim of?
The problem with the critics who call Pakistani progressive thinkers desi liberals is that they ignore many dimensions of a single problem. They see things in black and white. When a progressive person speaks about the horrors of Arabisation, they suddenly come up with the pictures of Pakistani youth wearing jeans and using mobile phones…
-
ملالہ کا ڈرامہ – سازشی نظریے
پوری دنیا کے ٹی وی، اخبارات اور نیوز چینلز پر چلنے والے آج کل ایک رجحان کی ہی بات کرتے ہیں جس میں ہماری قوم گھری ہوئی ہے۔ ڈرامے کا مرکزی کردار ٹین ایجر ملالہ یوسفزئی نے انجام دیا، ڈرامے میں نام نہاد طالبان عورتوں کے حقوق اور تعلیم کے لیے آواز اٹھانے پر ملالہ…
-
Green House Effect of US-Taliban talks
Comments on the article by Hussain Haqqani in NY Times today. Agreeing to Haqqani, I guess US is aiming for short term goals over here. Adding to the same, the next battleground of Taliban ideological warfare will be Pakistan and it will be source for their ideology dissemination and manpower recruitment. No matter how much…
