Category: Pakistani Society
-
A Rebuttal Against Conspiracy Theories on COVID and Dr. Fauci
Dr. Akif Khan (This is a point to point rebuttal of Dr. Faraz Siddiqui’s video (in Urdu language) titled FAUCI: Science, Power and Dollars on his Youtube channel called Billionneurons Faraz Siddiqui) I am not an authority on the technical questions of virology, and specialists in that field can answer them better than I can.…
-
کیا آبادی ایک مسئلہ ہے؟ حصہ دوم
پچھلے ماہ ایک پوسٹ لگائی تھی کہ آبادی کوئی مسئلہ کیوں نہیں ہے۔ [1] حالانکہ اس مضمون میں فیکٹس اور فگرز، دلائل، ثبوت اور شواہد کے ساتھ ہر بات کی گئی تھی مگر پھر بھی بہت سے لوگوں کو یہ سب قبول کرنا مشکل لگا۔ کچھ نے اس کو سرخ سازش قرار دیا، کچھ…
-
سازشی نظریات کیسے پھیلتے ہیں اور ان سے کیسے بچا جائے؟
—
by
تحریر: ڈاکٹر عاکف خان کوئی بھی واقعہ ہو ہم لوگ فورا اپنے سازشی دماغ لڑانا شروع کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ حال ہی میں ایک خاتون کا ٹی وی پر مکالمہ ہوا تو دو تین دن میں لوگوں نے اس میں بھی سازش تلاش کر لی کہ یہ سب سکرپٹڈ تھا۔ اسی طرح…
-
سائنس کیسے کام کرتی ہے اور ہمارے سوشل میڈیا دانشور
Science Experiment Vectors by Vecteezy تحریر: ڈاکٹر عاکف خان مختصراً سائنس ایسے کام کرتی ہے کہ جب آپ کوئی مشاہدہ کرتے ہیں اور اپنے سابقہ علم کی بنیاد پر کوئی مفروضہ بناتے ہیں تو سائنسی طریقہ کار کے مطابق آپ یہ نہیں کرتے کہ اس مفروضے کے حق میں ثبوت اور شواہد اکٹھے کرنا…
-
کیا آبادی ایک مسئلہ ہے؟
دنیا میں آبادی کی کثافت فی سکویئر کلومیٹر کے حساب سے۔Wikimedia Creative Commons License CC0 1.0 تحریر و تحقیق: ڈاکٹر عاکف خان نوٹ: حوالہ جات مضمون کے آخر میں لف ہیں۔ آپ نے اکثر پاکستانی دانشوروں کو آبادی کے مسئلے پر بات کرتے سنا ہو گا کہ آبادی کا طوفان آ رہا ہے اور سب…
-
گرم ٹھنڈی تاثیر، مچھلی اور یرقان (جانڈس)
پروٹین کو میٹابولائز کرنے کے لیے جسم کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے گرمی لگتی ہے اور پھر پروٹین کے میٹابولزم سے مزید حرارت پیدا ہوتی ہے اس کے بعد امائینو ایسڈز جو کہ پروٹین کے بریک ڈاون یا میٹابولزم سے بنتے ہیں وہ نئے پروٹین بناتے ہیں یہ عمل بھی ایگزوتھرمک یعنی…
-
عمران خان کا منصوبہ (حصہ دوم)
سڑکوں پر تصادم غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے قبل از وقت انتخابات کرانے کے خان کے مطالبے کو مستردکرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات سال میں شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ لیکن یاسمین کہتی ہیں کہ “ہر بیانیہ [حکومت کے لیے] انتخابات کو ملتویکرنے کا جواز پیش کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے۔” 22 مارچ کو، پاکستان کے الیکشن کمیشن نے ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبےپنجاب میں مقامی ووٹنگ کو 30 اپریل سے 8 اکتوبر تک موخر کر دیا۔ عمران خان مزید کہتے ہیں، “پاکستان میں سیاسی استحکام الیکشن سے آئے گا۔ یہیں سے معاشی بحالی کا بھی آغاز ہو گا۔” امریکی نقطہنگاہ سے عمران خان شاید ایک معاشی طور پر بدحال اور دہشتگردی کی لپیٹ میں آئی ہوئی اسلامی مملکت کے لیے مثالی انتخاب نہیں ہیں۔خان کے مطابق آج تک کسی واحد شخص نے مقتدرہ یا اسٹیبلشمنٹ کو اس طرح خوفزدہ نہیں کیا ہے جیسے میں نے۔ وہ اس بات پر ڈٹے ہیںکہ کیسے مجھے باہر رکھیں اور عوام اس بات پر کہ کیسے مجھے واپس لائے۔ یہ پاکستان کی بدحالی کا مظہر ہے کہ ملک کا عرصہ دراز بعد ایک مقبول سیاست دان بننے والا شخص گھر میں نظربند بیٹھا ہے۔مگر اسجنوبی ایشیاء کی ریڑھ کی ہڈی نما قوم جو کہ آنکھیں خیرہ کرنے والی خلیج عرب سے شروع ہوتی ہے اپنی ہمالیہ کی بلندیوں پر جا پہنچتیہے اس کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں بنتا۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست ہے، اگرچہ یہ اپنی آدھی تاریخ میں خاکیوں کے تسلط میںرہی ہے، اس کے باوجود دنیا میں اقتدار کے حتمی ثالث کے طور پر اپنا نمایاں کردار رکھا ہے۔ پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی عمران خان، 5 اکتوبر 1952 کو لاہور کے ایک متمول پشتون گھرانے میں پیدا ہوا۔ خان نے آکسفورڈ یونیورسٹی سےسیاست، فلسفہ اور معاشیات کی تعلیم حاصل کی، اور برطانیہ میں ہی پہلی بار اس نے 18 سال کی عمر میں پاکستان کے لیے کرکٹ کھیلی۔یہ برطانیہ کی کڑویلی زمین تھی جس نے خان کے سیاسی شعور کو بنیاد فراہم کی۔ عمران خان کہتے ہیں، “جب میں انگلستان آیا تھا اسوقت تک ملک پر ایک فوجی آمر دس سال سے قابض تھا۔ طاقتور کا راج تھا۔ باقی لوگ غلامی میں تھے۔ قانون کا راج ہی انسان کو آزادی دےسکتا ہے۔ قانون کی پاسداری ہی کسی قوم کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھار سکتا ہے۔ میں نے یہی دریافت کیا۔” کرکٹ کی پچ پر، خان ایک ایسا جادوگر تھا جس نے قابل اور منجھے کھلاڑیوں کو یکجا کر دیا، اور ایک ایسے ٹیم بنائی جو 1992 کرکٹ ورلڈکپ میں غیر معمولی حالات کے اندر فتح یاب ہوئی۔ جب خان وزیراعظم بنا تو انہی قائدانہ خصوصیات کی جھلک نظر آئی۔ اس نے ایک انوکھےفارمولے پر چلتے ہوئے طلباء، مزدوروں، اسلامی شدت پسندوں اور ملک کی طاقتور فوج کو ساتھ ملا کر شریف خاندان کا بڑا سیاسی بیڑہ تباہکر ڈالا۔ اگرچہ خان کا سب سے بڑا کارنامہ لاہور کا شوکت خانم کینسر ہسپتال ہے (جس کی زمین نواز شریف کی حکومت نے ہی خان کو دیتھی)، جسے انہوں نے 1994 میں اپنی والدہ کی یاد میں کھولا، جو اسی بیماری سے کئی برس قبل چل بسی تھیں۔ یہ پاکستان کے غریبوںکی خدمت کرنے والا سب سے بڑا کینسر ہسپتال ہے اور خان کی انتظامی صلاحیتوں کا ایک ثبوت بھی۔ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں کامیابی سے قبل خان نے بائیس سال سیاست کے صحراوں میں ٹھوکریں کھائیں۔ لیکن ایک بار اقتدار میںآنے کے بعد، خود ساختہ جرات مندانہ مصلح غیر متزلزل ہو گیا۔ حکومت کے مقابلے میں اپوزیشن آسان ہے۔ خان کے پلان ختم ہو گئے اور وہاپنے ناپسندیدہ لوگوں کو اپنا شراکت دار بناتے بناتے ان میں گھر گیا، یہاں تک کہ کالعدم مذہبی انتہاپسند جماعت تحریک لبیک پاکستان جوکہ کھلم کھلا بلاسفیمی کے ملزموں کے ازخود سر قلم کرنے کی بات کرتی ہے اس کی خوشنودی تک حاصل کرنے لگا۔ کچھ کامیابیاں ملیں جنمیں پاکستان کی کورونا وائرس سے نمٹنے کی دنیا بھر نے تعریف کی، جس میں فی کس اموات پڑوسی ملک بھارت سے صرف ایک تہائی رہیں۔اس کے علاوہ “دس ارب درختوں کا سونامی” جنگلات کی بحالی کی مہم مقبول تھی۔ اس کے علاوہ دو ہزار انیس میں پاکستان میں بینالاقوامی ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی تھی، جو کہ سری لنکا کی ٹیم پر دہشت گرد حملے کے بعد سے تقریبا دس سال سے رکی تھی۔ خان کی نجی زندگی شاذ و نادر ہی سرخیوں سے باہر رہی ہے۔ ان کی پہلی بیوی برطانوی صحافی اور سوشل آئکن جمائما خان گولڈ اسمتھتھیں، جو کہ ویلز کی شہزادی لیڈی ڈیانا کی قریبی دوست بھی تھیں۔ جمائما نے شادی کے لیے اسلام قبول کیا، اگرچہ یہ شادی نو سال بعددو ہزار چار میں ٹوٹ گئی، اس کے علاوہ جمائما کا یہودی ورثہ خان کے لیے سیاسی بارود تھا۔ (ان کے دو بیٹے لندن میں رہتے ہیں۔) خان کیبرطانوی پاکستانی صحافی ریحام خان سے دوسری شادی نو ماہ تک جاری رہی۔ کیلیفورنیا کی عدالت کے انیس سو ستانوے کے فیصلے کےمطابق، خان کی ایک اور بیٹی بھی ہے، جو کہ شادی کے بغیر پیدا ہوئی جبکہ کئی اور بچوں کے بارے میں بھی عموما افوائیں پھیلتی رہتی ہیںجن کو عمران خان ساری عمر دبانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ دو ہزار اٹھارہ میں، اقتدار سنبھالنے سے چھ ماہ قبل، انہوں نے اپنی موجودہبیوی بشریٰ بی بی خان جو کہ ایک مذہبی خاتون ہیں سے شادی کی۔ (جاری ہے) پہلا حصہ:- https://azkworld.blogspot.com/2023/04/blog-post.html
-
Food, Hunger, and Health: Navigating the Complexities of our Relationship with Food
Hunger, anger, and hanger – three words that may seem unrelated but have a strong connection when it comes to food. The way we eat, or don’t eat, can affect our mood, health, and overall well-being. There are harmful effects associated with hunger as well as overeating, such as headaches, fatigue, weakness, diabetes, heart disease,…
