Originally published in Hum Sub on September 11, 2020. Read the original.
سزائے موت کسی بھی چیز کا حل نہیں ہے چہ جائیکہ ریپ کی۔ یہ بات سماجی مسائل اور جرائم پر کام کرنے والے ماہرین متعدد بار ثابت کر چکے ہیں۔ اس کی ایک مثال زینب کے قاتل کی پھانسی کی ہے۔ اس کی پھانسی کے اگلے ہی ماہ چھ بچیاں جنسی زیادتی کا شکار ہوئیں۔ اگر پھانسی حل ہوتی تو اگلے ماہ ہی اتنے زیادہ کیسز سامنے نہ آتے۔ تشدد کا حل کبھی بھی تشدد نہیں ہوتا۔
پہلے تو مردوں کو بچپن سے سکھائیں کہ وہ اپنی وحشت کو کیسے قابو میں رکھیں اور خواتین کو انسان سمجھیں۔ صرف اپنے گھر کی نہیں سب خواتین کو۔ دوسری بات کانسینٹ کا مطلب سمجھائیں۔ ریپ، جنسیات اور نفسیاتی معاملات کی الف بے بتائیں۔ یہ سب چیزیں بچوں کو بچپن سے سلیبس میں سکھائیں۔ اس کے بعد ایک عوامی ڈیٹا بیس بنائیں جو ہر کسی کی پہنچ میں ہو۔ جنسی درندوں کو رجسٹر کریں۔ جیل ہونے کے بعد ان کو جی پی ایس ڈیوائس پہنائیں۔ ان کو مخصوص ملازمتوں اور مخصوص رہائشی علاقوں تک محدود کریں۔
اچھا اس سے پہلے یہ بات سوچیں کہ کیا پہلے سے قوانین نہیں ہیں اور ہمارے رویے کیسے ہیں؟ کیا ان قوانین پر عمل درآمد ہوتا ہے؟ ابھی کچھ عمر رسیدہ خواتین ریپ ہونے والی خاتون کو ہی مورد الزام ٹھہرا رہیں تھیں۔ مختاراں مائی کو پنجاب کے فیصلے پر درجنوں افراد مل کر ریپ کرتے ہیں اور ہم لوگ کہتے ہیں کہ مختاراں مائی مغربی ایجنٹ ہے۔
یہ تو ہو گئی ہمارے معاشرتی رویوں کی بات۔ اب آتے ہیں قوانین کی طرف۔ پہلے سے سب قوانین موجود ہیں لیکن ان پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوتا۔ ایک شخص کیمرے کے سامنے ایک پولیس والے کو گاڑی کے نیچے کچل دیتا ہے۔ شاہ رخ جتوئی معصوم شاہدین کو بھون ڈالتا ہے۔ راؤ انوار نوجوان نقیب کو جعلی مقابلے میں مار ڈالتا ہے اور یہ تینوں با اثر لوگ گلے میں ہار ڈالے وکٹری کے نشانات بناتے رہا ہو جاتے ہیں۔
ہم تشدد کے مقابلہ میں مزید تشدد سے یا خاموشی سے حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم مظلوموں کو ہی جرم کا ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں۔ ہم اصل مسائل کی نشاندہی نہیں کرتے نہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ہمیشہ اپنی انگلی غلط سمت میں اٹھاتے ہیں۔
جب تک اصل مسائل کی نشاندہی نہیں ہو گی، قوانین پر عمل درآمد نہیں ہو گا، مظلوم کے بجائے ظلم اور ظالم کی سرکوبی نہیں کی جائے گی یاد رکھیں یہ مسائل اس وقت تک حل نہیں ہو سکتے۔ خدارا پہلا کام یہ کیجیے کہ اپنے رویے درست کیجیے مظلوم پر الزام نہ دھریے اور تشدد کی کسی بھی قسم کی حمایت نہ کریں۔

Leave a Reply