
دنیا کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ یہ بات اکثر لوگوں کو شاکنگ لگتی ہے اور کچھ دوست اس پر سخت معترض بھی ہوتے ہیں۔ آج ان دونوں چیزوں پر بات کرتے ہیں۔
بادی النظر میں آپ کو لگتا ہو گا اور مالتھوزین متھ کے پچھلے سو سال کے پروپیگینڈے نے بھی یہ بات پھیلا رکھی ہے کہ آبادی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے اور یہ ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہے اور یہ زمین کے محدود وسائل کو ختم کر کے عنقریب انسانی نسل کو بھوک، افلاس، قحط، پینے کے صاف پانی کی کمی اور ماحولیاتی آلودگی سے ختم کر ڈالے گا۔ بھیانک انجام! یہی وجہ ہے کہ بہت سے دوست اوورپاپولیشن سے ڈرتے ہیں اور اسے ایک مسئلہ سمجھتے ہیں۔
اگرچہ دنیا کی آبادی بیسویں صدی میں سائنسی ترقی، اینٹی بائیوٹکس اور جینیاتی خوراک کئ ایجاد اور زرعی آلات اور فارمنگ ٹیکنالوجی میں ترقی کے باعث محض ایک صدی میں آٹھ گنا بڑھ چکی ہے مگر اعداد و شمار اور زمینی حقائق کے مطابق یہ آبادی مزید نہیں بڑھے گی بلکہ کم ہو گی۔ اس پر آخر میں بات کریں گے۔
پہلے ان دوستوں کے پچھلی اقساط میں بچ جانے والے اعتراضات کا جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ اعتراضات کتنے حق بجانب ہیں اور کتنے محض ڈر اور خوف پھیلانے یعنی فیئر مونگرنگ پر مبنی ہیں۔ دو مزید اعتراضات جو کہ انہی مضامین کے نتیجے میں دوستوں نے اٹھائے ان میں سے ایک بڑا اعتراض زچہ یعنی خواتین کی صحت سے متعلق تھا جبکہ دوسرا شدت پسندی کے تناظر میں تھا۔ یہ دونوں اعتراضات مبنی بر حقائق ہیں اور انہیں آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
زچہ کی صحت کے حوالے سے یہ بات بالکل درست ہے کہ زیادہ بچے پیدا کرنا خواتین کی صحت کے لیے بہتر نہیں ہے۔ پینتیس سال کی عمر کے بعد خواتین اور مردوں دونوں کی افزائش نسل کی صلاحیت میں بھی کافی کمی آ جاتی ہے۔ غربت اور افلاس کی ماری خواتین صحت کی سہولیات کے فقدان سے مزید خطرے میں پڑتی ہیں۔ مگر پھر یہاں معاملہ وسائل کی عدم دستیابی اور غیر منصفانہ تقسیم پر ہی جاتا ہے جس پر پچھلے مضامین میں سیر حاصل بحث کی جا چکی ہے۔ یہاں ایک اور بات یہ توجہ طلب ہے کہ ان تمام مضامین میں کہیں بھی اس بات پر زور نہیں دیا گیا کہ خواتین کو زیادہ بچے ہی پیدا کرنے چاہیئیں۔ بلکہ کھلم کھلا اس بات کا ذکر ہے کہ یہ فیصلہ صرف پہلے خواتین اور پھر ان جوڑوں کا ذاتی ہونا چاہیے اور اس میں کسی بندش تولید کے طریقہ ہائے کار کو زبردستی نافذ کرنا انتہائی غلط ہو گا۔ اگر جوڑے بچے پیدا نہیں کرنا چاہیتے، کم بچے پیدا کرنا چاہتے ہیں یا زیادہ بچے پیدا کرنا چاہتے ہیں اس بات کی آزادی اور حق صرف ان کو خود ہونا چاہیے۔ ابارشن بھی خواتین کا ذاتی فیصلہ ہے اس پر کسی قسم کی کوئی اخلاقی، نظریاتی، سیاسی یا قانونی بندش ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔ بلکہ اس معاملے میں ریاست کو خؤاتین کو پوری سہولیات فراہم کرنی چاہیئیں جہاں وہ بغیر کسی ڈر خوف کے بہتر اور محفوظ میڈیکل طریقوں سے معالجین کے زیرنگرانی اس عمل سے گزر سکیں۔ امید ہے کہ اس حوالے سے احباب کو اعتراض کا تشفی جواب مل گیا ہو گا۔
دوسرا اہم اعتراض شدت پسندی کے حوالے سے ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں شدت پسند تنظیمیں اور مذہبی رجعت پسندی عام ہے آبادی میں اضافہ ایک خطرناک جوا ہے۔ یہاں پھر سے یہ چیز واضح طور پر ریاست کی ذمہ داری میں آتی ہے۔ مگر چلیں یہاں اس پر زور نہیں دیتے کہ مبادا احباب اعتراض کریں کہ ناچیز ہر بات ریاست کے کھاتے میں ہی ڈال دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں پر دو باتوں کی طرف توجہ دلوانا چاہوں گا۔ پہلی تو یہ کہ اگر آپ ایک شدت پسند آبادی کی افزائش نسل کو جابر انداز میں کنٹرول کرنے کی وکالت کریں گے تو یہ تو آپ کے اپنے آزادی کے اصولوں کے برخلاف ہو گا۔ میرا کارل پاپر کی اس بات پر مکمل یقین ہے کہ عدم برداشت کی برداشت مزید عدم برداشت کو جنم دیتی ہے۔ مگر یہاں انسانی حقوق کو دیکھیں۔ کیا یہ بارڈر لائن یوجینکس پر مبنی نظریہ نہیں ہے؟ چلیں آپ کہتے ہیں کہ ہم کون سا زبردستی کسی کو بچے پیدا کرنے سے روک رہے یا قوانین بنانے کا کہہ رہے ہم تو صرف آگاہی پھیلانے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی بھی آبادی میں شدت پسندوں کا تناسب جتنا بھی ہو خطرناک ہوتا ہے۔ آبادی کم یا زیادہ کرنے سے اس پر اتنا فرق نہیں پڑتا۔ اور جو لوگ آپ کے وجود کو ہی برداشت نہیں کرتے، وہ آپ کی اس بات سے کیسے اتفاق کریں گے یا مانیں گے؟ کیسی آگاہی؟ اور اگر آپ حکومت کو مجبور کر رہے ہیں کہ بچے پیدا کرنے پر پابندی لگائے تو وہ پابندی آپ پر بھی لگے گی۔ اول تو حکومت نے شدت پسندی ختم کرنی ہوتی تو اس سے بہتر طریقے تھے۔ اس کی پولیٹیکل ول ہی موجود نہیں ہے۔ باقی آپ لوگ بہتر جانتے ہیں اس مسئلے کے بارے میں۔ وہ یہاں موضوع بحث نہیں ہے۔ مزیدبراں اگر حکومت نے آپ کی بات مان کر ایسا کوئی قانون بنا اور اس کا نفاذ کر بھی ڈالا تو بھی وہ یہ کہنے سے تو رہی کہ لبرل دس بچے پیدا کریں اور رجعت پسند صرف ایک، نہیں؟ نہ لبرلوں نے دس بچے پیدا کرنے۔ کیا پھر حکومت کو بولیں گے کہ ہمیں زیادہ بچے پیدا کرنے پر مجبور کرو تاکہ لبرل زیادہ سے زیادہ ہو جائیں۔ پھر یہ بات بھی سوچیں کہ جن معاشروں میں ایسے قوانین بنائے گئے وہ کہاں کے لبرل تھے؟ آپ آبادی کو مسئلہ نہ سمجھنے والوں کا بائیں بازو کا کہتے ہیں جبکہ خود بائیں بازو کے ممالک کی بندش پیدائش کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ آج ان ملکوں کا حال خود دیکھ لیں۔
اس سے بات نیچے والے گراف پر آتی ہے۔ سرخ رنگ کا مطلب ہے کہ آبادی بڑھنے کی شرح خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ پچھلی اقساط میں بھی شرح آبادی پر بات ہوئی تھی۔ شرح آبادی کا مطلب ہے کہ دو بندے یعنی ایک جوڑا اپنے آپ کو ریپلیس کر کے کتنے افراد کو جنم دیتا ہے۔ اگر شرح آبادی دو ہے تو اس کا مطلب ہے دو بندے دو ہی بچے پیدا کر رہے۔ شرح آبادی اگر دو اعشاریہ ایک سے نیچے گر جائے تو آبادی میں کمی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ چین حتی کہ بھارت کا حال بھی دیکھ لیں جہاں بالترتیب ایک اعشاریہ دو اور دو تک گر چکی ہے۔ یعنی یہاں اب آبادی بڑھنے کے بجائے کم ہونا شروع ہو گی۔ ایشیاء کی مجموعی اوسط دو اعشاریہ ایک سات پر آن پہنچی ہے اور مسلسل گر رہی ہے۔ پاکستان کی شرح آبادی سن دو ہزار میں پانچ سے زاہد تھی، اب تین اعشاریہ تین پر پہنچ چکی ہے اور مسلسل کم ہو رہی ہے اگر آپ یو این کے پاپولیشن گراف دیکھیں۔
یو این کی ایک اور حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا کی آبادی سن دو ہزار پچاسی کے قریب اپنی انتہا پر پہنچے گی جو کہ دس ارب ہے۔ اس کے بعد دنیا کی آبادی کم ہونا شروع ہو جائے گی اگر یہی حالات رہے۔ ہماری زمین پر بیس ارب اور بعض تخمینوں کے مطابق سو ارب سے زاہد افراد کے وسائل موجود ہیں۔ ایک انٹرسٹنگ فیکٹ جان کر شاید آپ کو حیرت ہو کہ اگر آپ دنیا کے تمام یعنی آٹھ ارب افراد کو اوپر نیچے لادیں تو امریکہ کی گرینڈ کینیئن کے ایک چھوٹے سے حصے کو ہی بمشکل بھر پائیں گے۔ خوراک، پانی اور ماحول کی تباہی میں زیادہ قصور مس مینجمنٹ اور غیرمنصفانہ تقسیم کا ہے۔
ایک اور فن فیکٹ بتاوں کے آج سے دو سو سال قبل جب رابرٹ تھامس مالتھوز نامی ایک پادری نے آبادی کے بڑھنے کو خطرہ قرار دیا تھا اور جس کو نیو مالتھوزین سوچ کے تحت آج بھی مانا جاتا ہے، اُس وقت دنیا کی آبادی ایک ارب تھی۔ آج ہم آٹھ ارب تک پہنچ چکے ہیں۔ مالتھوز کے تمام تر غلط دعووں کو نظرانداز کر کے اس کی بات کو درست بھی تسلیم کریں تو میڈیکل سائنس، زراعت اور فارمنگ کی ترقی انیسویں صدی کی پہلی دہائی کے اواخر میں ہوئی۔ یو این پاپولیشن کنٹرول کی ویبسائٹ پر اگر آپ پاپولیشن کے مسائل دیکھیں تو وہاں بھی واضح طور پر پاپولیشن کنسنٹریشن، اربنائزیشن، مس مینیجمنٹ اور ماحولیاتی آلودگی نہ روکنے جیسے اسباب پر ہی زیادہ بات ہوئی ہوئی ہے۔
آج چین، جاپان اور مغرب میں افزائش نسل کی تمام پالیسیز ریورس کر دی گئی ہیں بلکہ زیادہ بچے پیدا کرنے کی تلقین اور انسینٹیوز دینا شروع ہو چکے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والے بھارت اور چین میں فرٹیلیٹی ریٹ خطرناک حد تک گر چکے ہیں جو کہ اس بات کی خمازی کرتے ہیں زیادہ آبادی نظر آنا اور آبادی کا بڑھنا دو مختلف عوامل ہیں۔
لہذا اگلی مرتبہ جب آپ غریبوں میں کنڈوم بانٹنے کی بات کریں تو ان چار تحاریر میں موجود دلائل، رپورٹس، اعداد و شمار اور سائنس پر غور ضرور کیجیے گا۔ اور اگر آپ اس مالتھوزین متھ پر پھر بھی ڈھٹائی سے ڈٹنا چاہتے ہیں اور ڈیٹا کو نظرانداز کر کے اپنے تعصبات کے ساتھ وفاداری اور کاگنیٹیو ڈزوننس کو قائم رکھنا چاہتے ہیں تو معذرت کے ساتھ نہ آپ لبرل ہیں نہ ریشنلسٹ۔ آپ میں اور ایک بند دماغ، اناپرست، خودغرض اور اندھی تقلید والے رجعت پسند میں کوئی فرق نہیں ہے۔
اور خدارا سبط حسن اور عباس جالالپوری کی کتابوں کے سحر سے نکل آئیں۔ وہ کتب آج سے پانچ چھ دہائیاں پہلے لکھی گئی تھیں۔ ان میں بہت سارے فیکچوئل ایرر یعنی سائنسی اور ڈیٹا کی غلطیاں تب بھی تھیں اور آج وہ کتب مزید ارریلیونٹ ہو چکی ہیں۔ دنیا بہت بدل چکی ہے آگے بڑھ چکی ہے۔ اپنے کانسیپٹس کو ری وزٹ کریں، ان لرن اور لرن کرنا سیکھیں اور موجودہ حالات و واقعات کے اوپر اپڈیٹڈ لٹریچر اور کتب بھی پڑھیں۔ ورنہ ایک ہی جگہ پھنسے رہیں گے۔ غریبوں کو بچے پیدا کرنے پر کوسنے دینے والی ایلیٹ ذہنیت سے چھٹکارا پائیں اور اصل مسائل پر غور فرمائیں۔ شکریہ!
تصویر بشکریہ: انڈیا ان پکسلز فیسبک پیج
India in Pixels

Leave a Reply