Originally published in Hum Sub on December 2, 2019. Read the original.
عدنان خان کاکڑ صاحب نے ایک فیس بک ڈسکشن میں سٹوڈنٹ یونینز کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ کی نشاندہی فرمائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کے اندر تو یونین ہونی چاہیے لیکن جب سیاسی جماعتوں کی ملک گیر تنظیم بن جائے تو وہ ادارے پر اپنا ہولڈ بنانے کے لیے دوسرے اداروں یا سابق سٹوڈنٹس سے بدمعاشی اور قتل و غارت کے لئے غنڈے بلاتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایسے ہوتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یونین سازی کا تشدد سے کوئی واسطہ ہے بھی یا نہیں۔
تشدد کا فروغ بنیادی طور پر ایک معاشرتی مسئلہ ہے۔ چونکہ طلبہ تنظیمیں اسی معاشرے کا حصہ ہیں تو وہ تشدد کا عنصر ہمیں یہاں بھی کسی حد تک نظر آتا ہے۔ اس کا یونین سازی سے کوئی تعلق نہیں۔ یونینز ملک کے ہر ادارے میں موجود ہیں۔ کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ پی آئی اے کے ملازمین نے ایک دوسرے کو مارا پیٹا؟
دنیا کی بڑی جامعات جن میں آکسفورڈ اور ہارورڈ شامل ہیں سب میں طلبہ یونینز موجود ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سنا کہ وہاں ایسا کوئی پرتشدد واقعہ ہوا؟ ہمارے اکثر پڑوسی ممالک میں بھی طلبہ یونینز موجود ہیں۔ کیا ہمارا نوجوان 40 سال سے طلبہ یونینز پر پابندی کے باوجود زیادہ متشدد ہے؟ فرض کیا یہ درست ہے تو پھر آپ اس کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے سلیبس اور تربیت کو درست کریں۔
تشدد کو روکنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ اس کے لیے حکومت قانون سازی کر سکتی ہے اور طلبہ تنظیموں سے حلف نامے بھی لے سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے یونینز سے پابندی ہٹاتے ہوئے صوبائی حکومتوں سے تشدد کے حوالے سے قانون سازی کی گارنٹی مانگی تھی جو وہ ابھی تک دینے میں ناکام ہیں۔
سیاسی تنظیمیں کسی اور لالچ میں بھی یہ مسائل حل نہیں کرنا چاہتی۔ سیاسی تنظیموں کے طلباء ونگ ابھی بھی موجود ہیں اور پابندی کے باوجود نہ صرف فنکشنل ہیں بلکہ بدنظمی کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ لوگ طلباء کے فائدے والے کاموں سے زیادہ نئے سٹوڈنٹس اور جوڑوں کو ہراساں کرنے سے لے کر میوزک فیسٹیولز کی مخالفت، مار دھاڑ اور ہر طرح کے بدنظمی کے کام کرتے ہیں۔
یونینز کی اجازت دینے سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ یہ لوگ نمائندگی کی غرض سے عام طالبعلموں کے آگے مجبور ہو جائیں گے اور ان کے اوپر دھونس دھاندلی نہیں جما سکیں گے۔ دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ تمام تنظیمیں برابری کی بنیاد پر مسابقت اور ریکروٹمنٹس کریں گی اور ایک تنظیم کو اجارہ داری نہیں حاصل ہو گی۔
ہم گلہ کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں قیادت کا فقدان ہے۔ پاکستان کی آبادی کا 36 فی صد حصہ تیس سال سے کم عمر لوگوں پر مبنی ہے۔ جب طلباء کو اختیار ملے گا تو احساس ذمہ داری بھی اجاگر ہوگا۔ افلاطون کا کہنا تھا کہ انسان ایک سیاسی جانور ہے۔ آپ انسان کو سیاست سے جدا نہیں کر سکتے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل پر اعتماد کرنا سیکھنا ہو گا۔

Leave a Reply