Originally published in Hum Sub on March 21, 2025. Read the original.
عالمی یوم نسواں کے حوالے سے احسن بودلہ صاحب کی دی بلیک ہول کی گفتگو اور کتاب کی رونمائی کی ویڈیو کے کچھ اولین لمحات دیکھنے کا موقع ملا۔ اچھی گفتگو تھی، سب کو سننی چاہیے۔ البتہ کچھ چیزیں ناچیز کے ذہن میں آئیں جن پر یہ تحریر لکھنے کی جسارت کرنی پڑی۔
ڈاکٹر روش ندیم نے احسن صاحب سے پوچھا کہ ایک عام آدمی تو یہ سمجھتا ہے کہ وہ خواتین کو بہت عزت دے رہا ہے بحیثیت ماں بہن بیٹی، وہی جو ایک عمومی دعوی ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی بہت عزت ہے، ان کو آپ کیسے سمجھائیں گے کہ خواتین کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے؟ اس سوال کے جواب میں احسن صاحب نے جینڈر گیپ اور پاکستان کی رینکنگ کا ذکر کیا جو ایک سو چھیالیس ممالک میں ایک سو پینتالیسویں نمبر پر بلاشبہ دگرگوں حالت میں کھڑی ہے۔ مگر اول تو آپ کسی عام شخص کو جینڈر گیپ اور رینکنگ سمجھا نہیں سکتے دوسرا وہ سمجھ بھی جائے تو وہ مغرب کی درجہ بندی اور اس کے معیارات کو تسلیم ہی نہیں کرے گا۔ آخر میں اس کا مدعا یہی ہو گا کہ بھئی میرا معیار تو کچھ اور ہے۔
میری ادنی رائے میں اگر مرد یہ سوال پوچھتا ہے تو اس کا تو سیدھا جواب یہ ہے کہ ایک مرد کا یہ دعوی کرنا کہ خواتین بہت خوش ہیں اس بات کی تائید کر رہا ہے کہ برابری نہیں ہے۔ یعنی ایک مرد یہ سمجھتا ہے کہ وہ خواتین کے جذبات اور احساسات کا ترجمان ہے جو یہ بتا رہا ہے کہ وہ بہت خوش ہیں یا غمگین ہیں۔ بھئی آپ کو کیا علم، آپ ان سے پوچھیں انہیں بتانے دیں جن کی بات ہو رہی ہے۔ ایک صیاد تو یہی کہے گا کہ پنچھی بہت خوش ہے انڈے دے رہا ہے کھانا کھا رہا ہے چہچہا رہا ہے جھولے لے رہا ہے اس کو کیا مسئلہ ہے؟
اب اگر کوئی خاتون یہ دعوی کرتی ہیں کہ ہم تو ان حالات میں بہت خوش ہیں اور سب حقوق مل رہے ہیں تو ان سے یہ عرض کی جا سکتی ہے کہ اول تو آپ کے حالات سب خواتین کے حالات کے ترجمان نہیں ہیں، دوم ہو سکتا ہے آپ خوش ہوں اور آپ کے خاندان کے مرد حضرات بہت اچھے ہوں اور آپ کے حالات بھی بہت بہتر ہوں بہ نسبت تیزاب سے جھلسے ہوئے جسم والی ہزاروں خواتین کے یا چولہا پھٹنے والی تین بچیوں کی ماں کے حالات سے یا ان خواتین کے جو کاروکاری، ونی/سوارا کی نظر ہو چکی ہیں یا جن کو غیرت کے نام پر قتل کیا جا چکا ہے یا جن کا شوہر انہیں روز پیٹتا ہے۔
اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ آپ اپنے باپ بھائی اور شوہر کی توقعات پر پوری اتر رہی ہوں اس لیے آپ کو کسی دشواری کا سامنا نہیں۔ براہ کرم محض تجرباتی طور پر کوئی عمل ان کی توقع سے ہٹ کر کر کے دیکھیے یا صرف ان کی بات سے غیر متفق ہو کر ہی دیکھ لیجیے۔
ایک اور اہم مغالطہ اور مبالغہ ہمارے معاشرے میں یہ ہے کہ خواتین کو جتنی عزت ہمارے معاشرے میں دی جاتی ہے کہیں نہیں دی جاتی۔ سب سے پہلے تو یہ جو سیٹ خالی کرنا یا بہن بہن پکارنا ماں کے قدموں تلے جنت اور بہن کا پیار وغیرہ یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔ خواتین کی مدد کرنے کے پیچھے بھی اکثر یہی سوچ کارفرما ہوتی ہے کہ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر آپ سے کمتر ہیں۔
خیر یہ بحث کہیں اور نکل جائے گی مگر یہ بھی حقیقت ہے چاہے آپ کو برا لگے کہ یہ عزت اس وقت تک ہی ہو رہی ہوتی ہے جب تک خاتون پدرسری معاشرے کی لگائی ہوئی لائن کراس نہیں کرتی اور اس پدرسری معاشرے کی توقعات پر پورا اترتی ہے۔
جب ماں یا بہن جائیداد میں حصہ مانگے اس کے بعد دیکھیں کہ بھائی کتنی عزت کرتا ہے۔ آپ نے یقیناً اپنے اردگرد لوگوں کو اپنی بہنوں کو گندی گالیاں نکالتے دیکھا ہو گا۔ ماؤں کی نعشوں سے جائیداد پر انگوٹھے لگوانے کی تو آج کل ویڈیوز عام ہیں۔
یہ تو ماں بہن بیٹی کا ذکر ہوا۔ باقی خواتین کو تو انسان بھی نہیں سمجھا جاتا۔ اسی طرح انٹرنیٹ کو اٹھا کر دیکھیں پوری دنیا میں خواتین کو آن لائن اتنی گندی اور فحش گالیاں نہیں نکالی جاتیں جتنی برصغیر کا مرد نکالتا ہے۔ یقین نہ آئے تو عورت مارچ کی کوئی پوسٹ اٹھا کر اس کے نیچے کمنٹس دیکھ لیں۔
دفتر یا یونیورسٹی میں کسی کولیگ یا ہم جماعت کی پیش قدمی روکنے والی خاتون سے پوچھیں کہ اس کو اس کے بعد کن خطابات سے نوازا جا چکا ہے بجائے شرمندہ ہونے کے یا راستے سے ہٹنے کے۔ کہاں کی عزت دیتا ہے یہ معاشرہ خواتین کو؟
راہ چلتی ہراسانی کو دیکھ لیں۔ کسی بھی خاتون سے پوچھیں کہ کیا اسے زندگی میں کبھی بھی راہ چلتے ہراسانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا؟ آپ کتنے اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ چلیے دس فیصد تو ہوں گی ایسی خواتین؟
میں خواتین کے حقوق کا ترجمان نہیں ہوں نہ اس قابل خود کو سمجھتا ہوں۔ خواتین اپنا اچھا بھلا خود سمجھتی ہیں اور ان میں اتنی قابلیت اور صلاحیت ہے کہ وہ اپنا محاذ خود سنبھال سکیں البتہ ان منطقی مغالطوں پر بات کرنی ضروری تھی۔
یہ ہم نے خواتین کو سب سے زیادہ عزت اور حقوق دیے ہوئے ہیں کا چورن چاٹنا اور چٹوانا بند کریں ہم نے کوئی خواتین کو عزت اور حقوق نہیں دیے ہوئے یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اس بات پر یقین کرنے والے مرد اور خواتین اپنے آپ کو اور دوسروں کو بھی دھوکہ دیتے ہیں۔
اور ایک اور تلخ بات یہ ہے کہ عزت وغیرہ کے فرسودہ اور رجعت پسند قبائلی تصورات کو چھوڑیں۔ آپ کسی کو عزت نہ دیں۔ بس آپ دوسروں کے حقوق نہ چھینیں، انہیں اپنی طرح برابر کا انسان سمجھیں اور جتنی آزادی آپ کو حاصل ہے اتنی پر ان کا بھی حق سمجھیں چاہے وہ خواتین ہوں اقلیتیں بچے بزرگ بیمار معذور یا پسے ہوئے طبقات۔ بس اتنا کافی ہے۔
مزید براں یہ جس طبقے یعنی خواتین کا معاملہ ہے انہی کی اکثریت کو فیصلہ کرنے دیں کہ انہیں کتنے حقوق اور آزادیاں حاصل ہیں۔ آپ اور میں یہ فیصلہ کرنے کی اہلیت ہرگز نہیں رکھتے۔

Leave a Reply