سازشی نظریات پر یقین کیوں؟ تحقیق کیا کہتی ہے، اور وائرل خبر نے کیا بگاڑا

Read in English

پچھلے کچھ ہفتوں سے ایک خبر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے: سائنس دانوں نے وہ دو خصلتیں دریافت کر لیں جو انسان کو سازشی نظریات کا شکار بناتی ہیں۔ خبر دلچسپ ہے، اور اس کے پیچھے ایک حقیقی تحقیق بھی موجود ہے۔ مگر جس شکل میں یہ خبر ہم تک پہنچی، اس میں کم از کم چار باتیں ایسی ہیں جو اصل تحقیق میں سرے سے موجود ہی نہیں۔

یہ تحریر دو کام کرے گی۔ پہلے یہ بتائے گی کہ تحقیق نے اصل میں کیا پایا۔ پھر یہ دکھائے گی کہ خبر بنتے بنتے وہ نتائج کیسے بدل گئے۔ دوسرا حصہ شاید پہلے سے زیادہ مفید ہے، کیونکہ سازشی سوچ کے خلاف اصل ہتھیار یہی ہے کہ ہم دعوے کو اس کے ماخذ تک واپس لے جانا سیکھ لیں۔

تحقیق نے اصل میں کیا کیا

یہ مطالعہ نفسیات کے تحقیقی جریدے Applied Cognitive Psychology میں شائع ہوا۔ اسے ایڈرین فرنہم، اسٹیفن کپیلو اور ڈیوڈ سیملنک نے انجام دیا۔ فرنہم نارویجن بزنس اسکول سے وابستہ ہیں اور اس موضوع پر ایک عرصے سے کام کر رہے ہیں۔

محققین نے 253 انگریزی بولنے والے بالغ افراد سے آن لائن سروے کرایا۔ شرکاء کی سب سے بڑی تعداد برطانیہ، جنوبی افریقہ، امریکہ اور کینیڈا سے تھی۔ ان کی اوسط عمر تقریباً 49 سال تھی اور اکثریت یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ تھی۔

سوالنامے میں سازشی ذہنیت ناپنے کے لیے دس بیانات شامل تھے، مثلاً یہ کہ خفیہ تنظیمیں سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں، یا یہ کہ حکومتی ادارے شہریوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ خاص توجہ پردہ پوشی کے تصور پر تھی، یعنی یہ یقین کہ طاقتور ادارے جان بوجھ کر سچ چھپا رہے ہیں اور شک کرنے والے ہی اصل میں دھوکے میں ہیں۔ ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا سیاست دان عموماً اپنے فیصلوں کے اصل محرکات چھپاتے ہیں۔

اس کے ساتھ شرکاء سے ان کی عمر، جنس، سیاسی رجحان، مذہبی وابستگی، رجائیت، اور اس بارے میں رائے لی گئی کہ دنیا بنیادی طور پر انصاف پر قائم ہے یا نہیں۔ آخر میں ایک شخصیت کا جائزہ لیا گیا جس میں چھ خصلتیں ناپی گئیں، ان میں غیر یقینی کو برداشت کرنے کی صلاحیت، جذباتی توازن، مسابقت اور خطرہ مول لینے کا رجحان شامل تھا۔

کل ملا کر چودہ عوامل کا تجزیہ ہوا۔

دو خصلتیں جو سب سے نمایاں نکلیں

پہلی: غیر یقینی کو برداشت نہ کر پانا۔

نفسیات میں اسے tolerance of ambiguity کہتے ہیں، یعنی انسان مبہم، ادھوری یا باہم متضاد معلومات پر کیا ردعمل دیتا ہے۔ جن لوگوں کا اسکور اس خصلت میں کم تھا، وہ سازشی نظریات کی طرف زیادہ مائل نکلے۔

اس کا منطق سیدھا ہے۔ جب کوئی بڑا واقعہ ہوتا ہے اور اس کی وضاحت الجھی ہوئی، نامکمل اور بورنگ ہو، تو کچھ لوگوں کے لیے یہ کیفیت ناقابل برداشت ہو جاتی ہے۔ سازشی نظریہ انہیں وہ چیز دیتا ہے جو حقیقت نہیں دے پا رہی: ایک صاف، مکمل اور دو ٹوک کہانی جس میں مجرم بھی متعین ہے اور مقصد بھی۔

دوسری: یہ احساس کہ دنیا بنیادی طور پر ناانصاف ہے۔

جو لوگ سمجھتے تھے کہ دنیا میں انصاف نہیں، وہ زیادہ آسانی سے یہ مان لیتے تھے کہ طاقتور گروہ خفیہ طور پر واقعات کو کنٹرول کر رہے ہیں۔

یہ بھی بے وجہ نہیں۔ یہ یقین کہ اچھے لوگوں کے ساتھ اچھا ہوتا ہے، ایک نفسیاتی سہارا ہے۔ جب یہ سہارا ٹوٹ جائے تو بچتا ہے بے بسی کا احساس۔ سازشی نظریہ اس بے بسی کو ایک عجیب سا سکون دیتا ہے، کیونکہ وہ کہتا ہے کہ آپ کے ساتھ جو ہوا وہ اندھے اتفاق کا نتیجہ نہیں تھا، کسی نے جان بوجھ کر کیا تھا۔ کم از کم کوئی تو کنٹرول میں ہے۔

ان دو کے علاوہ ایک تیسرا عامل بھی شماریاتی طور پر اہم نکلا: مذہبی وابستگی کی شدت۔ چودہ میں سے یہی تین عوامل نمایاں ثابت ہوئے، اور تینوں مل کر سازشی سوچ میں پائے جانے والے فرق کا تقریباً پانچواں حصہ سمجھا سکے۔

اس آخری جملے کو نظر انداز نہ کریں۔ پانچواں حصہ کا مطلب یہ بھی ہے کہ باقی اسی فیصد فرق کی وضاحت اس تحقیق سے نہیں ہوتی۔

سب سے دلچسپ نتیجہ: تعلیم کا کوئی تعلق نہیں نکلا

یونیورسٹی کی ڈگری رکھنے یا نہ رکھنے سے سازشی نظریات پر یقین میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ اسی طرح تجسس کی خصلت کا بھی کوئی نمایاں تعلق نہیں ملا۔

یہ اس عام مفروضے کو رد کرتا ہے کہ سازشی نظریات پر یقین جہالت کا مسئلہ ہے۔ پڑھا لکھا آدمی بھی اتنی ہی آسانی سے ان کا شکار ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے اندر وہ نفسیاتی ضرورت موجود ہو۔ مسئلہ معلومات کی کمی کا نہیں، بلکہ اس بے چینی کا ہے جو غیر یقینی پیدا کرتی ہے۔

اسی لیے سازشی نظریات پر یقین رکھنے والوں کو حقائق کی فہرست دکھا کر قائل کرنے کی کوششیں اکثر ناکام رہتی ہیں۔ آپ ایک ایسے سوال کا جواب دے رہے ہوتے ہیں جو پوچھا ہی نہیں گیا۔

اب وہ حصہ جو اصل تحقیق میں نہیں تھا

جو ورژن سوشل میڈیا پر پھیلا، اس میں کئی باتیں ایسی ہیں جو یا تو غلط ہیں یا تحقیق سے ماخوذ نہیں۔

  • نوجوان مردوں میں یہ رجحان زیادہ تھا۔ تحقیق میں عمر کا اثر معمولی تھا اور جنس کے حوالے سے نتیجہ اس کے الٹ نکلا: خواتین میں یہ رجحان قدرے زیادہ پایا گیا، مردوں میں نہیں۔ یہ سیدھا سادہ الٹ پھیر ہے۔
  • ذہانت اس کی وجہ نہیں تھی۔ تحقیق میں ذہانت ناپی ہی نہیں گئی۔ جو چیز ماپی نہ گئی ہو، اس کے بارے میں نتیجہ نکالنا ممکن نہیں۔
  • ان لوگوں میں ایک آمرانہ رجحان بھی پایا گیا۔ اصل تحقیق کے خلاصے اور اس کی تفصیلی رپورٹنگ میں آمریت پسندی کوئی ناپا جانے والا متغیر نہیں تھا۔ جو شخصیت کا جائزہ استعمال ہوا اس میں یہ خصلت شامل ہی نہیں تھی۔ یہ جملہ غالباً لکھنے والے کی اپنی تشریح ہے، تحقیق کا نتیجہ نہیں۔
  • شرکاء امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سے تھے۔ تفصیلی رپورٹنگ کے مطابق سب سے بڑی تعداد برطانیہ، جنوبی افریقہ، امریکہ اور کینیڈا سے تھی۔ جنوبی افریقہ غائب کر کے آسٹریلیا شامل کر دیا گیا۔
  • تین خصلتیں نمایاں ہوئیں مگر دو زیادہ اہم تھیں۔ تیسری کا نام کبھی بتایا ہی نہیں گیا۔ اصل تحقیق میں جو تین شخصیتی خصلتیں نمایاں ہوئیں وہ جذباتی توازن، غیر یقینی کی برداشت، اور مسابقت تھیں۔

ان میں سے کوئی غلطی بدنیتی پر مبنی ہونا ضروری نہیں۔ خبر جب تحقیقی مقالے سے نکل کر ایک ویب سائٹ، پھر دوسری، پھر فیس بک پوسٹ تک پہنچتی ہے تو ہر مرحلے پر تھوڑی سی چیز تیز ہو جاتی ہے، تھوڑی سی گر جاتی ہے۔ نتیجہ ایک ایسا دعویٰ ہوتا ہے جو اصل سے زیادہ پرکشش اور کم درست ہوتا ہے۔

تحقیق کی اپنی حدود

انصاف کا تقاضا ہے کہ اصل مقالے پر بھی وہی معیار لگایا جائے۔

یہ مطالعہ باہمی تعلق دکھاتا ہے، سبب نہیں۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ غیر یقینی سے بے چینی سازشی سوچ پیدا کرتی ہے۔ ہو سکتا ہے تعلق الٹا ہو، یا دونوں کسی تیسری وجہ سے جڑے ہوں۔

نمونہ صرف 253 افراد کا تھا، جو چودہ متغیرات کے تجزیے کے لیے کم ہے۔ محققین خود اعتراف کرتے ہیں کہ اس سے چھوٹے اثرات پکڑنے کی صلاحیت محدود ہو گئی۔

شرکاء زیادہ تر ادھیڑ عمر، تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد تھے۔ یہ عام آبادی کی نمائندگی نہیں کرتے۔

اور سب سے اہم بات ہمارے تناظر میں: تمام شرکاء مغربی یا انگریزی بولنے والے معاشروں سے تھے۔ مذہبی وابستگی اور سیاسی رجحان کے بارے میں جو نتائج نکلے، وہ ان معاشروں کے مخصوص سیاق میں ہیں۔ انہیں جوں کا توں پاکستان پر منطبق کرنا ایک اضافی قیاس ہے جس کی تصدیق اس تحقیق سے نہیں ہوتی۔

ہمارے لیے کیا سبق ہے

اگر اس تحقیق کا مرکزی نکتہ درست ہے تو سازشی سوچ کا علاج مزید معلومات نہیں۔

اصل مہارت یہ ہے کہ انسان مجھے نہیں معلوم کہہ سکے اور اس پر بے چین نہ ہو۔ کہ وہ ایک ادھوری وضاحت کے ساتھ جی سکے، کہ وہ یہ برداشت کر لے کہ کچھ واقعات کی کوئی صاف ستھری، اطمینان بخش کہانی موجود ہی نہیں۔

یہ برداشت پیدا کی جا سکتی ہے۔ ہر بار جب ہم کسی وائرل دعوے کو اس کے اصل ماخذ تک پیچھا کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ راستے میں کیا بدلا، ہم اسی برداشت کی مشق کر رہے ہوتے ہیں۔

اس تحریر نے یہی کیا۔ آپ بھی اگلی بار یہی کر سکتے ہیں۔

حوالہ جات

  • Furnham, A., Cuppello, S., & Semmelink, D. S. (2025). Conspiracy Theory Mentality, Injustice and Tolerance of Ambiguity. Applied Cognitive Psychology, 39(6). DOI: 10.1002/acp.70151
  • PsyPost کی تفصیلی رپورٹ
  • IFLScience کی رپورٹ اور فرنہم کے تبصرے

Categories

Subscribe

Get new posts by email.


Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Dr. Akif Khan

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading