Originally published in Hum Sub on February 19, 2019. Read the original.
بریکنگ بیڈ ٹی وی سیریز کا نام تو آپ نے سنا ہی ہو گا۔ اس میں ایک کردار ایک شاطر وکیل سال گڈ مین کا ہے۔ سال کا بڑا بھائی چَک بھی ایک بہت مشہور وکیل ہوتا ہے۔ لیکن اسے الیکٹروفوبیا ہوتا ہے یعنی بجلی، شعاؤں اور ان سے چلنے والی ہر چیز سے خوف۔ اگر وہ کسی ٹرانسفارمر کے نیچے کھڑا ہو جائے تو وہ حواس باختہ ہو جاتا ہے۔
اسی لیے وہ اپنے گھر سے بجلی کٹوا دیتا ہے۔ موبائل استعمال نہیں کرتا۔ موم بتیوں اور لالٹینوں کی روشنی میں کتابیں پڑھتا ہے۔ سر پر ایلومینیم فوائل کی دھاتی ٹوپی اور کمبل پہنے رکھتا ہے۔ اس کا ماننا ہوتا ہے کہ اسے کوئی نفسیاتی بیماری، فوبیا یا پیرونیا نہیں ہے بلکہ یہ ایک اصلی بیماری ہے جس کا ڈاکٹروں کو بھی ابھی تک علم نہیں۔
ہم نے بھی جب سے ففتھ جنریشن وارفیئر کا نام سنا ہے بڑی پریشانی کا عالم ہے۔ رات کو نیند نہیں آتی۔ کوئی ای میل یا میسج آ جائے تو دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ہم نے بھی اس کے سدباب کے لیے کچھ عملی اقدامات کیے ہیں۔ لیپ ٹاپ کے کیمرے پر ٹیپ چڑھائی ہوئی ہے اور موبائل کو ایلومینیم فوائل میں لپیٹ کر رکھتے ہیں۔
فوراً اپنے ایک دوست کا خیال آیا جو کافور کا کاروبار کرتے تھے لیکن بچپن سے کمپیوٹروں کے ساتھ لگے رہتے تھے اور پارٹ ٹائم میں ٹویٹر پر دشمنان اسلام و پاکستان کے خلاف جہاد کرتے ہیں۔ پہلی مرتبہ ففتھ جنریشن کا نام انہی سے سنا لہٰذا انہی کے پاس حاضری دی۔ فرمانے لگے میرے پیرومرشد کے مطابق آج کل پرانے جنگی حربے ناکام ہو چکے ہیں چنانچہ ممالک نفسیاتی اور مواصلاتی جنگ لڑتے ہیں۔
کچھ پڑھے لکھے افراد سے پوچھا اور گوگل بھائی کی مدد حاصل کی تو معلوم ہوا کہ دنیا ابھی تک فورتھ جنریشن پر اٹکی پڑی ہے ففتھ کا کسی کو پتا ہی نہیں، لیکن ہم نے ففتھ پر ترقی کر لی ہے۔
خیر چک کا انجام سنیں۔ ایک دن اس کی لالٹین کتابوں پر جا گری اور اس کا گھر جل گیا اور وہ اسی میں جل کر مر گیا۔ تب سے میں اور زیادہ کنفیوزڈ ہوں کہ کہیں اس ففتھ جنریشن وارفیئر کے چکر میں اور بیوقوفی اور حواس باختگی میں ہم کہیں اپنا گھر ہی نہ جلا بیٹھیں۔

Leave a Reply